کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ آپ کس حد تک جا سکتے ہیں؟
اپنے کسی پیارے کی زندگی بچانے کے لیے۔ تصور کریں، ڈاکٹر کہتا ہے کہ آپ کے بہن بھائی کا صرف ایک ہی راستہ ہے: گردے کی پیوند کاری۔ اور آپ میچ ہو جاتے ہیں۔ آپ کا جواب کیا ہوگا؟ یہ سوال صرف ایک سوال نہیں، یہ انسانی رشتوں کی گہرائیوں میں اتر جانے والا امتحان ہے۔ کچھ لوگوں نے اس کا جواب اپنے گردے عطیہ کر کے دیا۔ یہ کہانی ہے ان ہمت والوں کی جنہوں نے جان بچانے کے لیے اپنا ایک حصہ دے دیا۔ بہن بھائی کی جان بچانے کے لیے گردے دیے… کیا آپ یہ کر سکتے ہیں؟
ہم میں سے ہر کوئی یہی کہتا ہے کہ ہم اپنے پیاروں کے لیے کچھ بھی کر سکتے ہیں۔ لیکن جب عمل کی گھڑی آتی ہے، تو ذہن میں سینکڑوں خدشات آ جاتے ہیں۔ “میرا اپنا مستقبل؟” “آپریشن کا خوف؟” “اگر کچھ غلط ہو گیا تو؟” یہ فطری ہے۔ مگر کچھ لوگ ان تمام خدشات کو پیچھے چھوڑ دیتے ہیں۔ وہ ایک ایسا قدم اٹھاتے ہیں جو انسانی ہمدردی کی انتہا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق، زندہ عطیہ اعضاء میں سے تقریباً 35% فیصد خاندانی عطیہ ہوتے ہیں۔ اور ان میں اکثریت بہن بھائیوں کی ہوتی ہے۔ یہ صرف ایک عدد نہیں، یہ محبت کی 35% کہانیاں ہیں۔
وہ لمحہ جب سب کچھ بدل جاتا ہے
ذرا اپنے بچپن کے کسی جھگڑے کو یاد کریں۔ بسکٹ کے لیے لڑائی، ٹی وی کے ریموٹ پر قبضہ۔ پھر اچانک زندگی ایک سیدھی لکیر سے نکل کر ایک مشکل موڑ پر آ جاتی ہے۔ آپ کا وہی بھائی یا بہن، جس سے آپ کل تک جھگڑ رہے تھے، اب ہسپتال کے بستر پر زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہا ہے۔ اس کا جسم اس کا ساتھ چھوڑ رہا ہے۔ ڈائیلاسس ایک طویل اور تکلیف دہ سفر بن جاتا ہے۔
ایسے میں ڈاکٹر گردے عطیہ کرنے کا آپشن دیتا ہے۔ آپ کا خون کا گروپ اور ٹشو میچ ہو جاتا ہے۔ آپ کے سامنے ایک راستہ ہے۔ یہ فیصلہ آسان نہیں ہوتا۔ لیکن کچھ لوگ فوری طور پر ‘ہاں’ کہہ دیتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ جب آپ کسی کو اپنے خون سے جڑا ہوا دیکھتے ہیں، تو حساب کتاب ختم ہو جاتا ہے۔
خوف اور حقائق: آپریشن کے بارے میں وہ باتیں جو آپ نہیں جانتے
ہم سب کے ذہن میں ڈر ہوتا ہے۔ آئیے، ان ڈروں کو حقائق سے پکڑیں۔
- ڈر: “میرا ایک گردہ کم ہو جائے گا، میں کمزور رہوں گا۔”
حقیقت: انسان ایک گردے کے ساتھ بھی مکمل صحت مند زندگی گزار سکتا ہے۔ باقی ماندہ گردہ اپنا کام دوگنا کرنے لگتا ہے۔ - ڈر: “آپریشن بہت خطرناک اور تکلیف دہ ہوگا۔”
حقیقت: جدید لیپروسکوپک سرجری میں چھوٹے سے کٹ لگایا جاتا ہے۔ ہاں، درد ہوتا ہے، مگر یہ عارضی ہے۔ اور اس درد کا مقابلہ آپ کے پیارے کی مسکان سے نہیں کیا جا سکتا۔ - ڈر: “میری زندگی مختصر ہو جائے گی۔”
حقیقت: مطالعات سے ثابت ہوا ہے کہ گردہ دینے والے افراد کی اوسط عمر عام لوگوں جیسی ہی رہتی ہے۔ درحقیقت، یہ جاننے کا اطمینان کہ آپ نے ایک زندگی بچائی، آپ کو ذہنی طور پر مضبوط بناتا ہے۔
ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ گردہ دینے کے بعد بہت سے لوگوں کا کہنا ہوتا ہے کہ انہیں زندگی کی قدر بہتر طور پر سمجھ آئی۔ یہ صرف ایک عضو کا تحفہ نہیں، یہ اپنے وجود کے ایک حصے کا تحفہ ہے۔
وہ جواب جو زندگی بدل دیتا ہے
اب ذرا اس سوال پر واپس آتے ہیں: “بہن بھائی کی جان بچانے کے لیے گردے دیے… کیا آپ یہ کر سکتے ہیں؟”
اس کا جواب ہر ایک کا اپنا ہے۔ مگر جنہوں نے کیا، ان کی کہانیاں کچھ یوں ہیں:
- وہ بھائی جس نے
