کیا آپ نے محسوس کیا ہے کہ آج کل ہر طرف ایک عجیب سی بے چینی پھیلی ہوئی ہے؟ خبریں کھولیں، سوشل میڈیا دیکھیں، یہاں تک کہ دوستوں کی باتوں میں بھی ایک گہرا اضطراب بسا ہوا ہے۔ ایسا لگتا ہے جیسے پوری دنیا کی کشیدگی ہمارے اپنے سینے پر بوجھ بن کر بیٹھ گئی ہو۔ سانس لینا بھی مشکل ہو رہا ہو۔ ایسے میں ایک سوال ذہن میں آتا ہے: دنیا جب بے چین ہو تو کیا کریں؟ کیا کوئی ایسا پرسکون رہنے کا طریقہ ہے جو ہمیں اس عالمی ہلچل کے بیچ بھی اندرونی اطمینان دے سکے؟

جواب ہاں میں ہے۔ اور وہ ایک اصول پر مشتمل ہے۔ لیکن اس سے پہلے، آئیے ایک بات سمجھ لیں۔ جب باہر کا ماحول پریشان کن ہو، تو ہمارا دماغ اسے اپنی ذاتی جنگ سمجھنے لگتا ہے۔ یہ ایک نفسیاتی حقیقت ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، 70% سے زیادہ لوگ اجتماعی تناؤ کو اپنی ذاتی پریشانی میں تبدیل کر لیتے ہیں۔ ہم خبروں کے طوفان میں خود کو بہت چھوٹا اور بے بس محسوس کرنے لگتے ہیں۔

مگر مسئلہ باہر نہیں، اندر ہے۔ ہماری ردعمل دینے کی عادت۔ ہم ہر خبر، ہر تبصرے، ہر خوف کو اپنے ذہن کے مرکز میں بٹھا لیتے ہیں۔ اور پھر وہیں سے ذہنی سکون کا رشتہ ٹوٹنا شروع ہو جاتا ہے۔

وہ ایک اصول: کنٹرول کا دائرہ

یہ اصول بہت سادہ ہے۔ درحقیقت، یہ قدیم فلسفہ اسٹوئزم کا بنیادی اصول ہے جسے آج کی نفسیات بھی مانتی ہے۔ اور وہ یہ: اپنی توجہ صرف ان چیزوں پر مرکوز کریں جو آپ کے کنٹرول میں ہیں۔

ذرا غور کریں۔ کیا آپ دنیا میں ہونے والے واقعات روک سکتے ہیں؟ نہیں۔ کیا آپ دوسروں کے خیالات بدل سکتے ہیں؟ شاید نہیں۔ لیکن کیا آپ اپنی سانس پر کنٹرول کر سکتے ہیں؟ جی ہاں۔ کیا آپ اپنی صبح کی روٹین چن سکتے ہیں؟ بالکل۔ کیا آپ اپنے گرد موجود لوگوں کے ساتھ نرمی کا رویہ اپنا سکتے ہیں؟ ضرور۔ یہی وہ دائرہ ہے جہاں آپ کی اصل طاقت ہے۔

اس ایک اصول کو کیسے اپنائیں؟ (عملی قدم)

یہ صرف نظریہ نہیں، روزمرہ کی پریکٹس ہے۔ آج ہی سے شروع کر دیں۔

  • صبح کی ایک عادت: جاگتے ہی فون چیک کرنے کی بجائے، پہلے 5 منٹ صرف اپنے لیے نکالیں۔ تین گہری سانسیں لیں۔ اپنے آج کے دائرہ کنٹرول کے تین چھوٹے نقطے ذہن میں لکھ لیں۔ جیسے: “آج میں اپنے کام پر پوری توجہ دوں گا”، “آج میں اپنے لیے صحت مند کھانا بناؤں گا”، “آج میں کسی ایک شخص کی مدد کروں گا”۔
  • خبروں کی ڈائٹ: خود کو خبروں کے تسلسل سے بچائیں۔ دن میں صرف ایک یا دو مرتبہ مخصوص وقت پر خبریں چیک کریں۔ بے مقصد سکرولنگ بند کریں۔ آپ دیکھیں گے کہ دنیاوی کشیدگی کا بوجھ فوراً ہلکا ہو جائے گا۔
  • ردعمل پر پہرہ: جب کوئی پریشان کن بات سنیں، اپنے آپ سے پوچھیں: “کیا یہ میرے کنٹرول میں ہے؟” اگر جواب ‘نہیں’ ہے، تو اسے جانے دیں۔ اسے اپنے جذبات کا حصہ نہ بننے دیں۔ یہ اضطراب کا علاج کرنے کا طاقتور ترین ذریعہ ہے۔

میرا ایک دوست، علی، بہت سیاسی خبریں پڑھتا تھا۔ ہر خبر اسے غصہ دلاتی۔ ایک دن اس نے یہ اصول اپنایا۔ اس نے فیصلہ کیا کہ وہ ووٹ ڈالے گا، پرامن احتجاج کرے گا (جو اس کے کنٹرول میں تھا)، لیکن ہر خبر پر جذباتی ردعمل دینا بند کر دے گا (جو اس کے کنٹرول میں نہیں تھا)۔ کچھ ہی ہفتوں میں اس کا روحانی سکون واپس آ گیا۔

کیوں کام کرتا ہے یہ اصول؟

کیونکہ یہ آپ کی ذہنی توانائی کو بچاتا ہے۔ جب آپ اپنی توانائی ان چیزوں پر لگاتے ہیں جن پر آپ کا کوئی اختیار نہیں، تو آپ خود کو تھکا دیتے ہیں اور بے بسی کا شکار ہو جاتے ہیں۔ یہ ب