کبھی سوچا ہے آپ کے فرج میں پڑا وہ دہی کہاں سے آیا؟ ہم سب جانتے ہیں دودھ سے بنتا ہے، پر کیا بس یہی ایک ذریعہ ہے؟ بالکل نہیں! دہی کے ذرائع حیران کن حد تک وسیع ہیں۔ آج ہم انہی پوشیدہ ذرائع کی دنیا میں جائیں گے۔ دہی کے وہ ذرائع جن سے آپ ناواقف ہیں، وہ آپ کی صحت بخش غذا کا نیا اور دلچسپ باب کھول سکتے ہیں۔ چلیں، دریافت شروع کرتے ہیں۔

ہم میں سے اکثر گھر میں دہی جمانے کو ہی آخری حقیقت سمجھتے ہیں۔ مگر دنیا بھر میں دہی بنانے کے لیے دودھ کے علاوہ بھی بہت کچھ استعمال ہوتا ہے۔ یہ سب پروبائیوٹکس اور ذائقے کا کھیل ہے۔

یہ جان کر حیرت ہوگی کہ دہی صرف گائے یا بھینس کے دودھ تک محدود نہیں۔ نہ صرف یہ، بلکہ اسے بنانے کا طریقہ بھی الگ ہو سکتا ہے۔ آئیں، پہلے روایتی ذرائع سے ہٹ کر کچھ دیکھتے ہیں۔

دہی کی مختلف اقسام اور ذرائع کی تصویر

دودھ ہی دودھ ہے، پر کس کا؟ دہی کے غیر روایتی ذرائع

جب دہی بنانے کا طریقہ وہی رہے، مگر بنیادی جز بدل جائے، تو نئی دہی کی اقسام جنم لیتی ہیں۔

  • بادیوں کا دودھ: بکری یا بھیڑ کا دودھ۔ یہ ہلکا اور ہضم میں آسان ہوتا ہے۔ اس کا دہی ذائقے میں تیز اور گاڑھا ہوتا ہے۔
  • پودوں کی بنیاد پر: سویا ملک، بادام کا دودھ، ناریل کا دودھ، یا جئی کا دودھ۔ جی ہاں! ان سب سے بھی دہی جما سکتے ہیں۔ بس اس کے لیے مخصوص دہی کا جماوٹ یا پروبائیوٹک کیپسول استعمال کرنا پڑتا ہے۔
  • خطے کے خاص ذرائع: دنیا کے بعض حصوں میں اونٹنی یا بیل کے دودھ کا دہی بھی پایا جاتا ہے، جو غذائیت سے بھرپور ہوتا ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق، پلانٹ بیسڈ دہی کی مارکیٹ میں 50% سے زیادہ اضافہ ہوا ہے۔ لوگ ذائقے اور صحت کے لیے نئے آپشنز تلاش کر رہے ہیں۔

پودوں سے بنے دہی کے ذرائع اور ان کی تیاری

خصوصی غذائی ضروریات؟ کوئی مسئلہ نہیں!

اگر آپ لیکٹوز انٹولرنٹ ہیں یا آپکو لیکٹک ایسڈ الرجی ہے، تو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ آپ کے لیے بھی راستے موجود ہیں۔

  • نوٹس برائے لییکٹوز انٹولرنس: روایتی دہی میں لییکٹوز ہوتا ہے۔ مگر، پلانٹ بیسڈ دہی (جیسے ناریل یا بادام کا دہی) بالکل لییکٹوز فری ہوتا ہے۔ کچھ اسٹورز پر ‘لییکٹوز فری ڈیری دہی’ بھی مل جاتا ہے، جہاں لییکٹوز کو پہلے ہی توڑ دیا جاتا ہے۔ Mayo Clinic کے مطابق، کچھ لوگ عام دہی کو بھی بہتر ہضم کر پاتے ہیں کیونکہ اس میں موجود بیکٹیریا لییکٹوز کو توڑنے میں مدد کرتے ہیں۔
  • نوٹس برائے لییکٹک ایسڈ الرجی: یہ حالت نایاب ہے مگر سنجیدہ۔ اس صورت میں دودھ سے بنے کسی بھی دہی سے پرہیز ضروری ہے۔ پلانٹ بیسڈ آپشنز ہی واحد محفوظ انتخاب ہیں۔ مگر احتیاط کریں، ان میں بھی کچھ اضافی اجزا ہو سکتے ہیں۔ American Academy of Allergy, Asthma & Immunology سے متعلقہ معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں۔
  • گلٹن فری؟ زیادہ تر دہی قدرتی طور پر گلٹن فری ہوتا ہے، پر پیکٹ والے دہی میں شامل ہونے والے اجزا چیک کرنا مت بھولیں۔

میرا ایک دوست لییکٹوز انٹولرنٹ ہے۔ اس نے ناریل کے دہی کو اپنی روزمرہ کی روٹین میں شامل کیا اور اب وہ بغیر کسی پیٹ میں تکلیف کے پروبائیوٹکس کے فوائد لے رہا ہے۔

لییکٹوز فری اور پلانٹ بیسڈ دہی کے صحت بخش ذرائع

گھر پر ہی کیوں نہ بنائیں اپنا ‘سپیشل’ دہی؟

گھر میں دہی جمانا ایک مہارت ہے۔ آپ کنٹرول کر سکتے ہیں موٹائی، ذ