کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ جب کوئی عورت ماں بنتی ہے، تو وہ اپنے اندر کتنی باتیں دبا لیتی ہے؟

میں نے حال ہی میں ایک دوست سے بات کی۔ اس کی شادی کو پانچ سال ہوگئے تھے۔ اس کی ایک بیٹی بھی تھی۔ لیکن جب ہم اکیلے تھے تو اس نے رک کر کہا: “کاش میں نے اپنا کیریئر نہ چھوڑا ہوتا۔” اور وہ یہ کہتے ہوئے رو پڑی۔ یہ وہ جذبات تھے جو وہ کبھی اپنے شوہر یا سوشل میڈیا پر نہیں لا سکتی۔ یہی ہے ماں بننے کی چپ۔ حقیقت یہ ہے کہ ماں بننے کے پچھتاوے بہت سی خواتین کے دل میں دبے ہوتے ہیں، لیکن وہ انہیں کھل کر شیئر نہیں کر پاتیں۔

یہ مضمون آپ کو ان خاموش ماں کی کہانیاں بتائے گا جو اپنے زچگی کے راز چھپا کر رکھتی ہیں۔ یہ ان جذبات کی گہرائی ہے جو معاشرہ دیکھنا نہیں چاہتا۔ تو چلیں، اس سچائی کا پردہ فاش کرتے ہیں۔

کیا آپ جانتے ہیں کہ برطانیہ میں ہونے والی ایک تحقیق کے مطابق، تقریباً 30% مائیں تسلیم کرتی ہیں کہ انہیں ماں بننے کا کچھ نہ کچھ پچھتاوا ہے؟ یہ کوئی معمولی تعداد نہیں۔ یہ ایک خاموش وبا ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ آخر یہ عورتیں کیوں خاموش رہتی ہیں؟ وجہ یہ ہے کہ معاشرے نے ماں کو ایک فرشتہ بنا دیا ہے۔ اگر وہ کہے کہ مجھے اپنا بچہ پسند نہیں، تو اسے برا بھلا کہا جاتا ہے۔ ماؤں کی ذہنی الجھن کو کوئی نہیں سمجھتا۔

یہ صرف آپ کی ذاتی کہانی نہیں ہے۔ یہ ایک عالمی مسئلہ ہے۔ جیسے جیسے خواتین اپنے کیریئر، اپنی آزادی اور اپنی شناخت کو بچانے کی کوشش کرتی ہیں، ان پر ماں بننے کا دباؤ اور بھی بڑھ جاتا ہے۔ زچگی کا نفسیاتی دباؤ اتنا شدید ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے آپ سے نفرت کرنے لگتی ہیں۔

آئیے، اس مسئلے کو کھول کر دیکھتے ہیں۔ میں آپ کو اپنی ایک کلائنٹ کی کہانی سناتا ہوں۔ اس کا نام ثنا تھا (فرضی نام)۔ اس نے اپنی نوکری چھوڑ دی، اپنا گھر بار چھوڑ دیا، اور صرف اپنی بیٹی کے لیے جی رہی تھی۔ لیکن ایک دن وہ مجھے روتی ہوئی ملی۔ اس نے کہا: “میں اپنی بیٹی سے اتنی پیار کیوں نہیں کر پا رہی جتنا لوگ کہتے ہیں؟” ثنا دراصل ماں بننے کی چپ کا شکار تھی۔ اسے اپنے پچھتاوے پر شرم آتی تھی۔

وہ پچھتاوے جو آپ کبھی نہیں سنیں گے

یہ پچھتاوے بہت مختلف ہو سکتے ہیں۔ کچھ خواتین کو اپنی *جوانی* کا پچھتاوا ہوتا ہے۔ کچھ کو اپنے *کیریئر* کا۔ اور کچھ کو صرف یہ کہ “مجھے ماں بننے سے پہلے اپنی زندگی گزارنی چاہیے تھی۔”

  • پہلا پچھتاوا: خود کو کھونا – جیسے کہ ثنا، بہت سی عورتیں ماں بننے کے بعد اپنی شناخت کھو دیتی ہیں۔ وہ صرف “ثنا کی ماں” بن جاتی ہیں، نہ کہ خود ثنا۔
  • دوسرا پچھتاوا: رشتے کا بوجھ – کئی عورتوں کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر نے انہیں صرف بچے پیدا کرنے کی مشین سمجھا۔ محبت ختم ہوگئی۔
  • تیسرا پچھتاوا: مالی آزادی – ایک سروے کے مطابق، 65% مائیں تسلیم کرتی ہیں کہ انہیں اپنے مالی معاملات پر پچھتاوا ہے۔ وہ سوچتی ہیں کہ “کاش میں نے اپنی نوکری نہ چھوڑی ہوتی۔”

کیا یہ صرف خواتین کا مسئلہ ہے؟

نہیں، یہ سماج کا مسئلہ ہے۔ لیکن معاشرے کی طرف سے خواتین کے چھپے جذبات کو سمجھنے کی بجائے انہیں شرمندہ کیا جاتا ہے۔

ایک اور حقیقت یہ ہے کہ انٹرنیٹ پر بھی یہ “خاموشی” نظر آتی ہے۔ سوشل میڈیا پر آپ کو صرف خوش مائیں نظر آتی ہیں، لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔ جیسے بھارت میں ہونے والی ایک تحقیق میں پتا چلا کہ 70% سے زیادہ نئی مائیں ڈپریشن کا شکار ہوتی ہیں، لیکن ان میں سے صرف 10% ہی علاج کراتی ہیں۔

یہی وہ لمحہ ہے جب آپ کو سوچنا چاہیے۔ کیا آپ بھی اپنے ج