کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ کی کامیابی محض ایک اتفاق ہے؟ جیسے کوئی آپ کا راز کھول دے گا کہ آپ واقعی جعلی محسوس ہونا شروع کر دیں گے۔ یہ عجیب سی گھبراہٹ، یہ ڈر کہ آپ دوسروں کو دھوکہ دے رہے ہیں۔ درحقیقت، یہ ایک بہت عام نفسیاتی کیفیت ہے جسے امپوسٹر سنڈروم کہتے ہیں۔ اور یہ آپ کی ذہنی صحت اور خود اعتمادی کو بری طرح متاثر کر سکتا ہے۔ آج میں آپ کو بتانے والا ہوں کہ میں نے جعلی محسوس ہونے کے احساس پر کیسے قابو پایا۔ یہ سفر خود شناسی اور شخصی ترقی کا ایک حصہ تھا۔ چلیں، اس کے بارے میں بات کرتے ہیں۔
یہ احساس اکتبا اس وقت شدت اختیار کر جاتا ہے جب آپ کوئی نیا عہدہ سنبھالتے ہیں، پروموشن ملتی ہے، یا کوئی بڑی کامیابی ملتی ہے۔ آپ کے اندر کی آواز کہتی ہے، “تم یہ کام کرنے کے لائق نہیں ہو۔” حیرت کی بات ہے کہ 70% سے زیادہ لوگ اپنی زندگی میں کسی نہ کسی وقت اس feeling سے گزرتے ہیں۔ یہاں تک کہ بہت سی کامیاب شخصیات بھی!
میرے ساتھ یہ پہلی بار اس وقت ہوا جب میں نے اپنی پہلی نوکری شروع کی۔ دفتر میں سب مجھ سے بہت تجربہ کار تھے۔ میں ہر وقت یہی سوچتا رہتا تھا کہ کہیں میرے مالک کو میری حقیقت کا پتہ نہ چل جائے۔ میں خود کو بہت چھوٹا محسوس کرتا تھا۔
امپوسٹر سنڈروم آخر ہے کیا بلا؟
سادہ الفاظ میں، یہ ایک ایسا نفسیاتی پیٹرن ہے جہاں آپ اپنی کامیابیوں کو اپنی قابلیت کا نتیجہ ماننے سے انکار کر دیتے ہیں۔ آپ انہیں قسمت، موقع، یا دوسروں کی مدد کا نتیجہ سمجھتے ہیں۔ آپ کو ہمیشہ یہ ڈر ستاتا ہے کہ لوگ آپ کی “حقیقت” جان جائیں گے۔ یہ کوئی باقاعدہ medical diagnosis نہیں، لیکن یہ بہت حقیقی ہے۔
مثال کے طور پر، imagine کریں آپ نے کوئی پروجیکٹ بہت اچھے طریقے سے مکمل کیا۔ سب آپ کی تعریف کر رہے ہیں۔ لیکن آپ کے ذہن میں یہ خیال آرہا ہے کہ “یہ تو صرف luck تھی، اگلی بار تو میں ناکام ہو جاؤں گا۔” یہی جعلی محسوس ہونا ہے۔
کن لوگوں کو یہ مسئلہ زیادہ ہوتا ہے؟
یہ کسی کو بھی ہو سکتا ہے، لیکن کچھ لوگ اس کا زیادہ شکار ہوتے ہیں:
- ہائی اچیورز: وہ لوگ جو بہت زیادہ کامیابیاں حاصل کرتے ہیں۔ وہ اپنے معیار بہت high رکھتے ہیں۔
- پرфекشنسٹ: جو ہر چیز کو بہترین بنانا چاہتے ہیں۔ تھوڑی سی غلطی پر خود کو کوستے ہیں۔
- نئے ماحول میں جانے والے: جیسے نئی یونیورسٹی کا طالب علم یا نئی نوکری والا شخص۔
ایک تحقیق کے مطابق، 82% لوگوں کا خیال ہے کہ وہ اپنے field میں دوسروں کے مقابلے میں کم علم ہیں۔ یہ اعداد و شمار خود اس feeling کی عمومیّت کو ظاہر کرتے ہیں۔
میرا ذاتی تجربہ: میں نے قابو پایا کیسے؟
میرے لئے سب سے مشکل کام یہ ماننا تھا کہ یہ مسئلہ ہے۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ تو سب کے ساتھ ہوتا ہوگا۔ لیکن جب اس نے میری ذہنی صحت پر اثر ڈالنا شروع کیا، تو میں نے فیصلہ کیا کہ اب enough is enough.
میرا سفر کچھ اس طرح تھا:
- پہلا قدم: تسلیم کرنا
سب سے پہلے میں نے یہ مانا کہ ہاں، مجھے امپوسٹر سنڈروم کا سامنا ہے۔ یہ کوئی کمزوری نہیں تھی، بلکہ ایک چیلنج تھا۔ - دوسرا قدم: اپنی کامیابیوں کو لکھنا
میں نے ایک “Achievement Journal” بنانا شروع کیا۔ ہر چھوٹی بڑی کامیابی کو لکھتا۔ جب بھی جعلی محسوس کرتا، اس Journal کو پڑھ لیتا۔ - تیسرا قدم: بات چیت کرنا
میں نے اپنے قریبی دوستوں اور ایک Mentor سے اس کے بارے میں بات کی۔ یہ جان کر حیرت ہوئی کہ ان میں سے بھی بہت سے لوگ اس phase سے گزر چکے ہیں۔
