کھانے میں نمک کی ایک پھانک… ذائقہ تو بڑھا دیتی ہے، لیکن کیا آپ جانتے ہیں یہی چٹخارا آپ کے گردوں پر بھاری پڑ سکتا ہے؟ ہم میں سے اکثر لوگ نمک کی مقدار پر بالکل بھی توجہ نہیں دیتے، جبکہ یہ ہماری صحت کا ایک اہم ترین پہلو ہے۔ آئیے آج بات کرتے ہیں کہ نمک کی زیادہ مقدار آخر گردے کے افعال کو کیسے متاثر کرتی ہے۔ یہ جان کر آپ کو حیرت ہوگی کہ یہ سفید ذرّہ کس طرح آہستہ آہستہ ہمارے اندرونی نظام کو تباہ کر رہا ہوتا ہے۔

گردے: ہمارے جسم کا غیر معروف ہیرو

ذرا سوچیے، ہمارے گردے دن رات کیا کرتے ہیں؟ یہ چھوٹے سے عضو میں کئی بڑے کام ہوتے ہیں۔ خون صاف کرنا، فالتو پانی اور نمکیات باہر نکالنا، اور بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنا۔ یہ سب کچھ ایک نازک توازن سے ہوتا ہے۔ اور جب ہم سوڈیم یعنی نمک کی زیادہ مقدار کھاتے ہیں، تو یہ توازن بگڑنے لگتا ہے۔ بالکل ایسے جیسے کسی نازک مشین میں ریت ڈال دی جائے۔

نمک اور بلڈ پریشر کا گہرا تعلق

یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ نمک براہ راست آپ کے بلڈ پریشر پر اثر انداز ہوتا ہے۔ جب آپ زیادہ نمک کھاتے ہیں، تو آپ کا جسم اسے توازن میں لانے کے لیے زیادہ پانی جمع کرنے لگتا ہے۔ یہ اضافی پانی خون کی نالیوں پر دباؤ بڑھاتا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، دنیا بھر میں ہائی بلڈ پریشر کے تقریباً 30% کیسز کی وجہ نمک کی زیادہ مقدار ہے۔ اور ہائی بلڈ پریشر تو گردے کی بیماری کی سب سے بڑی وجوہات میں سے ایک ہے۔

گردوں پر نمک کے مضر اثرات: ایک ڈیٹیلڈ نظر

تو آخر کیا ہوتا ہے جب آپ مسلسل زیادہ نمک کھاتے رہتے ہیں؟ آئیے اسے مرحلہ وار سمجھتے ہیں۔

پہلا مرحلہ: اضافی بوجھ

گردوں کو خون میں موجود اضافی سوڈیم کو فلٹر کرنے کے لیے معمول سے زیادہ محنت کرنی پڑتی ہے۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ اپنی کار کو ہمیشہ زیادہ سپیڈ پر دوڑاتے رہیں۔ آخرکار انجن پر strain پڑتی ہے۔

دوسرا مرحلہ: خون کی نالیوں کا نقصان

مسلسل ہائی بلڈ پریشر گردوں کی ننھی اور نازک خون کی نالیوں کو نقصان پہنچانا شروع کر دیتا ہے۔ یہ نالیاں خون کو صاف کرنے کا کام کرتی ہیں۔ جب یہ خراب ہوتی ہیں، تو گردے کے افعال سست پڑنے لگتے ہیں۔

تیسرا مرحلہ: پروٹین کا ضائع ہونا

صحتماد گردے خون میں موجود پروٹین کو رکنے دیتے ہیں۔ لیکن نقصان پہنچنے پر، یہ پروٹین پیشاب کے ذریعے ضائع ہونے لگتی ہے۔ یہ گردے کی بیماری کی ایک بڑی علامت ہے۔

کیا آپ زیادہ نمک کھا رہے ہیں؟ ان علامات پر نظر رکھیں

جسم ہمیں اشارے دیتا رہتا ہے، بس سننی ہوتی ہے۔ اگر آپ میں یہ علامات ہیں، تو ہو سکتا ہے آپ کی نمک کی مقدار زیادہ ہو:

  • مسلسل پیاس لگنا۔
  • جسم یا چہرے پر سوجن محسوس ہونا۔
  • بار بار سر درد ہونا۔
  • پیشاب کم آنا یا اس کا رنگ گہرا ہونا۔

یہ سب اس بات کی نشانیاں ہو سکتی ہیں کہ آپ کے گردوں پر اضافی بوجھ پڑ رہا ہے۔

اپنے گردوں کی حفاظت کیسے کریں؟

خبر اچھی یہ ہے کہ آپ آج ہی سے اپنی عادات بدل کر اپنے گردوں کو تحفظ دے سکتے ہیں۔ یہ کوئی بہت مشکل کام نہیں۔

  • پیکٹ والی چیزیں کم کریں: پروسیسڈ فوڈ اور فاسٹ فوڈ میں نمک کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے۔
  • کھانا پکاتے وقت نمک کم ڈالیں: مصالحوں اور لیموں کے رس سے ذائقہ بڑھائیں۔
  • لیبل پڑھنے کی عادت ڈالیں: کسی بھی چیز کو خریدنے سے پہلے اس پر لک

Categorized in: