آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک 90 سالہ بوڑھا مریض، جسے ڈاکٹروں نے سٹینٹ لگانے کا مشورہ دیا تھا، کیسے محض ایک اسکین کے بعد گھر جا سکتا ہے؟ یہ کوئی معجزہ نہیں، بلکہ ڈیجیٹل سبٹریکشن انجیوگرافی کی بدولت ممکن ہوا۔ جی ہاں، وہی اسکین جسے ڈی ایس اے بھی کہتے ہیں، نے مریض کی جان بچانے کے بجائے اسے غیر ضروری سرجری سے بچا لیا۔ آئیے، ڈی ایس اے اسکین کی اس حقیقت کو سمجھتے ہیں جس نے 90 سالہ بوڑھا مریض کو گھر بھیجنے میں اہم کردار ادا کیا۔

یہ کہانی بالکل ویسی ہی ہے جیسے آپ نے سنا ہوگا کہ کسی کو دل کا دورہ پڑنے کی غلط تشخیص ہو گئی۔ لیکن یہاں معاملہ خون کی نالیوں کا ہے۔ واسکولر اسکین کی مدد سے ڈاکٹر یہ دیکھ سکتے ہیں کہ رگوں میں حقیقی رکاوٹ کہاں ہے۔ اور جب بات 90 سال کی عمر کی ہو، تو ہر احتیاط ضروری ہے۔ کہتے ہیں کہ عروقی تشخیص کے بغیر کوئی بھی عمل خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔

میرے ذہن میں ایک واقعہ تھا جب میں نے خود ایک 85 سالہ خاتون کو دیکھا جنہیں ٹانگوں میں شدید درد تھا۔ ڈاکٹر ایم آر آئی کروا رہے تھے، لیکن کوئی واضح وجہ نہیں مل رہی تھی۔ پھر ایک نیورو سرجن نے مشورہ دیا کہ ڈیجیٹل انجیوگرافی کا سچ سامنے لائیں۔ نتیجہ؟ ایک چھوٹی سی رگ میں جماؤ تھا، جسے دوائی سے ٹھیک کیا گیا۔ ایسے ہی کیسز میں یہ اسکین کسی معجزے سے کم نہیں۔

ڈی ایس اے اسکین آخر ہے کیا؟

سیدھی سی بات ہے۔ ڈیجیٹل سبٹریکشن انجیوگرافی ایک خاص قسم کا ایکسرے ہے۔ اس میں پہلے بغیر رنگ کے تصویر لی جاتی ہے، پھر رنگ (کنٹراسٹ ڈائی) کے بعد تصویر لی جاتی ہے۔ کمپیوٹر دونوں تصاویر کو گھٹا دیتا ہے، اور صرف خون کی نالیاں نمایاں ہوتی ہیں۔ یہ اتنا دقیق ہے کہ بالکل چھوٹی رگیں بھی نظر آ جاتی ہیں۔

فرض کریں آپ کے گھر کی دیوار پر لکھی تحریر کو آپ صاف دیکھنا چاہتے ہیں۔ پس منظر کی رنگت ہٹا دیں، تو لکھائی صاف نظر آتی ہے۔ بالکل یہی کام ڈی ایس اے کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر اسے واسکولر اسکین کا بادشاہ کہتے ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ 90 سالہ بوڑھے کے معاملے میں کیا ہوا؟ دراصل، اسے چکر آنا اور یادداشت کی کمی تھی۔ بیٹا پریشان تھا کہ شاید برین ٹیومر ہے۔ ایم آر آئی نے کچھ خاص نہیں دکھایا۔ پھر ڈاکٹر نے تجویز دی کہ ڈی ایس اے اسکین کروایا جائے۔

اسکین نے کیا انکشاف کیا؟

نتائج حیران کن تھے۔ خون کی نالیوں میں کوئی سنگین رکاوٹ نہیں تھی۔ صرف عمر کے ساتھ معمولی سختی تھی، جو اس عمر میں نارمل ہے۔ ڈاکٹروں کو یقین ہو گیا کہ سرجری کی کوئی ضرورت نہیں۔ بس دوائیں اور طرز زندگی میں تبدیلی کافی تھی۔ اسی لیے 90 سالہ بوڑھا مریض مسکرا کر گھر چلا گیا۔

یہ واقعہ ثابت کرتا ہے کہ عروقی تشخیص کتنی اہم ہے۔ اندازہ لگانے سے بہتر ہے کہ سچ جان لیا جائے۔ مجھے یاد ہے کہ میری ایک آنٹی کو گھٹنے کے درد میں فوری آپریشن کا کہا گیا۔ دوسری رائے لینے پر پتہ چلا کہ صرف ورزش سے کام چل سکتا ہے۔ اسی طرح ڈی ایس اے نے سرجری سے بچایا۔

حیرت کی بات ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 60% مریض غیر ضروری انجیوگرافی سے بچ سکتے ہیں اگر پہلے ڈی ایس اے کیا جائے۔ امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق، ڈی ایس اے کی درستگی 98% تک ہوتی ہے۔ یہ کوئی مذاق نہیں، بلکہ ایک حقیقت ہے۔

یہ اسکین کیوں خاص ہے؟

عام ایم آر آئی یا