کیا آپ نے کبھی سوچا کہ ہماری قدیم تہذیبوں کے خزانے میں کون سے راز چھپے ہیں؟ آج ہم ویدک دور اور آیوروید کے پراسرار رشتے کو کھوجنے والے ہیں۔ یہ سفر ہمیں ہزاروں سال پیچھے لے جائے گا۔ وہ رشتہ جو ویدک تہذیب اور سنہودڑ تہذیب کو آپس میں جوڑتا ہے۔ آیوروید صرف ایک قدیم طب کا نام نہیں، یہ تو ہماری ثقافت کی جان ہے۔
ویسے تو بہت سے لوگ ہڑپہ تہذیب اور ویدک دور کو الگ الگ مانتے ہیں۔ مگر نئی تحقیق نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا ہے۔ کیا آپ جانتے ہیں کہ موہنجو دڑو میں ملے باتھ رومز کا تعلق صفائی سے ہی نہیں تھا؟ یہ دراصل آیوروید کے “ڈیلیٹکس” (Detox) کے اصولوں کی پہلی شکل تھے۔ ہاں، یہ سچ ہے! یہ سب قدیم طب کے وہ اصول ہیں جو ہمیں دونوں تہذیبوں میں یکساں ملتے ہیں۔
آیوروید کی بنیاد پانچ عناصر پر ہے۔ ہوا، پانی، آگ، مٹی اور فضا۔ یہی عناصر ہمیں ویدک دور کی تعلیمات میں بھی نظر آتے ہیں۔ یہ کوئی اتفاق نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا فلسفہ ہے۔ دونوں تہذیبوں کا ماننا تھا کہ انسان اور فطرت کا رشتہ ٹوٹنا نہیں چاہیے۔
ویدک ادب: وہ ڈائری جس میں سب کچھ لکھا ہے
ویدک ادب دراصل ہمارے آباؤ اجداد کی ڈائری کی مانند ہے۔ رگ وید، جو دنیا کی قدیم ترین کتابوں میں سے ایک ہے، اس میں آیوروید کے بے شمار نسخے ملتے ہیں۔ جیسے مختلف جڑی بوٹیوں کے فوائد اور بیماریوں کے علاج۔ مگر سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یہ علم آیا کہاں سے؟
ماہرین کے مطابق، یہ علم دراصل سنہودڑ تہذیب کی دین ہے۔ جب آریاؤں نے ہڑپہ تہذیب کو فتح کیا، تو انہوں نے یہاں کے لوگوں کے علم کو اپنایا۔ پھر اسے اپنی زبان سنسکرت میں لکھ کر ویدک دور کا حصہ بنا دیا۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے آپ کسی کی ایجاد کو اپنے نام سے پیش کر دیں۔ مگر تاریخ نے اس رشتے کو کبھی نہیں چھپایا۔
ہڑپہ اور موہنجو دڑو: آیوروید کا پہلا گھر
آثار قدیمہ کے ماہرین کو ہڑپہ سے جو مہریں ملی ہیں، وہ بہت کچھ بتاتی ہیں۔ ان مہروں پر یوگا کی مختلف شکلیں بنی ہیں۔ اور یوگا آیوروید کا ایک اہم ستون ہے۔ ایک رپورٹ کے مطابق، ہڑپہ کے 78% دانتوں کے ڈھانچے اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ وہ لوگ قدرتی جڑی بوٹیوں کا استعمال کرتے تھے۔ یہ آیوروید کا بنیادی اصول ہے۔
یہاں تک کہ ان کے بنائے ہوئے نالے اور نکاسی آب کے نظام بھی آیوروید کے اصول “سواتھا” (صفائی) پر پورے اترتے ہیں۔ یہ سب اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ ہڑپہ تہذیب ہی دراصل آیوروید کی جڑ ہے۔
نتیجہ: ایک ہی سکے کے دو رخ
تو دوستو، بات صاف ہے۔ ویدک تہذیب اور سنہودڑ تہذیب ایک دوسرے سے الگ نہیں تھیں۔ بلکہ یہ ایک ہی سلسلے کی کڑیاں ہیں۔ آیوروید کا علم دراصل وادی سندھ کے لوگوں کی ایجاد تھا، جسے ویدک دور میں منظم کر کے کتابی شکل دے دی گئی۔
یہ دونوں تہذیبیں مل کر ہی ہمیں وہ عظیم علم دے گئیں جو آج بھی ہماری رہنمائی کر رہا ہے۔ تو اگلی بار جب آپ کسی آیورویدک نسخے کو آزمائیں، تو اس پرانی وراثت کو ضرور یاد کریں۔ کیا آپ کو لگتا ہے کہ ہماری تاریخ کے یہ اور بھی راز ہیں جو چھپے ہوئے ہیں؟ نیچے کمنٹس میں اپنی رائے ضرور شیئر کریں! 👇