کیا آپ نے کبھی محسوس کیا ہے کہ آپ کا کام آپ کی زندگی پر حاوی ہوتا جا رہا ہے؟ 🕒 آپ صبح اٹھتے ہیں اور فون چیک کرتے ہیں۔ شام کو گھر بیٹھے بھی ای میلز کا جواب دیتے ہیں۔ یہ سب کچھ آپ کے کام زندگی توازن کو بگاڑ رہا ہے۔ اور آپ کی ذہنی صحت پر بوجھ بن رہا ہے۔ تو پھر، کام اور زندگی میں توازن کیسے برقرار رکھیں؟ یہ سوال آج کل ہر کسی کے ذہن میں ہے۔ ایک صحت مند توازن حاصل کرنا ناممکن نہیں۔ بس کچھ چھوٹی چھوٹی عادات اپنانے کی ضرورت ہے۔
مجھے اپنے ایک کلائنٹ کا واقعہ یاد آ رہا ہے۔ وہ ہمیشہ تھکا تھکا محسوس کرتا تھا۔ اس کا خیال تھا کہ وہ 12 گھنٹے کام کر کے کامیاب ہو جائے گا۔ مگر اس کی پیداواریت گرتی چلی گئی۔ آخرکار اس نے وقت کی تنظیم پر توجہ دی۔ اور اس کی زندگی بدل گئی۔ آپ بھی ایسا ہی کر سکتے ہیں۔
یہ صرف کام کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ آپ کی مجموعی خوشی کے بارے میں ہے۔ جب آپ کا کام اور زندگی میں توازن درست ہوتا ہے، تو آپ ہر چیز کے لیے بہتر محسوس کرتے ہیں۔ آپ کے تعلقات بہتر ہوتے ہیں۔ آپ کا دماغ پرسکون رہتا ہے۔ چلیں، آج ہم اس کے کچھ آسان طریقے دیکھتے ہیں۔
اپنی ترجیحات کو سمجھیں
سب سے پہلی بات۔ آپ کو یہ فیصلہ کرنا ہوگا کہ آپ کے لیے کیا اہم ہے۔ کیا آپ ہر وقت دستیاب رہنے والے ملازم بننا چاہتے ہیں؟ یا ایک present parent اور اچھے partner؟ ایک تحقیق کے مطابق، 72% ملازمین کا کہنا ہے کہ خاندانی وقت ان کی ترجیح اول ہے۔
اپنی زندگی کے ہر پہلو کو دیکھیں۔
- خاندان اور دوست: کیا آپ ان کے ساتھ کوالٹی ٹائم گزار رہے ہیں؟
- ذاتی صحت: کیا آپ کھا رہے ہیں، سو رہے ہیں اور ورزش کر رہے ہیں؟
- کام: کیا آپ صرف ڈیڈ لائنز پوری کر رہے ہیں یا اپنے کام سے لطف اندوز بھی ہو رہے ہیں؟
جب آپ اپنی ترجیحات لکھ کر دیکھیں گے، تو آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ کہاں وقت ضائع کر رہے ہیں۔ یہ پہلا قدم ہے ایک بہتر صحت مند توازن کی طرف۔
حدود مقرر کریں۔ نہ کہنے کی ہمت کریں۔
یہ سب سے مشکل کام لگتا ہے۔ مگر یہ سب سے ضروری ہے۔ اگر آپ ہر کام کے لیے ہاں کہہ دیں گے، تو آپ کبھی بھی تناؤ میں کمی محسوس نہیں کریں گے۔
حدود کیسے بنائیں؟
میرا ایک دوست ہمیشہ شکایت کرتا تھا کہ اس کا باس اسے رات گئے تک میسج کرتا ہے۔ اس نے آخرکار ہمت کی اور اپنے باس سے بات کی۔ اس نے کہا کہ شام 7 بجے کے بعد وہ کام کے میسجز کا جواب نہیں دے گا، سوائے کسی ایمرجنسی کے۔ حیرت کی بات یہ ہوئی کہ اس کا باس نے نہ صرف اس کی بات مانی بلکہ اس کی عزت بھی بڑھ گئی۔
کچھ عملی حدود:
- کام کے اوقات: دفتر سے باہر نکلتے ہی کام کے ای میلز چیک کرنا بند کر دیں۔
- ڈیجیٹل ڈیٹاکس: ہفتے میں ایک دن فون کو “ڈنڈ” موڈ پر رکھیں۔
- ذہنی چھٹی: دن میں 15 منٹ کا “ورچوئل کافی بریک” لیں جس میں کام کی بات بالکل نہ کریں۔
یاد رکھیں، “نہ” کہنا خود کی دیکھ بھال کا ایک عمل ہے۔ یہ خود غرضی نہیں ہے۔
اپنے لیے وقت نکالیں۔ واقعی نکالیں۔
آپ اکثر سنتے ہوں گے کہ “اپنے لیے وقت نکالیں”۔ مگر کیا آپ واقعی ایسا کرتے ہیں؟ یا یہ محض ایک جملہ رہ گیا ہے؟ ایک سروے کے مطابق، صرف 30% لوگ ہی ایسا کر پاتے ہیں۔
اپنے لیے وقت نکالنا کوئی لگژری نہیں ہے۔ یہ ضرورت ہے۔ جیسے آپ اپنے فون کو چارج کرتے ہیں، ویسے ہی آپ کو ب
