آپ نے کبھی سوچا ہے کہ روزہ رکھنا آپ کے لیے کتنا محفوظ ہے؟ خاص طور پر اگر آپ گردے کے امراض کا شکار ہوں۔ یہ سوال ہر رمضان میں کروڑوں لوگوں کے ذہنوں میں گونجتا ہے۔ گردے کے مریض اکثر بغیر ڈاکٹر کے مشورے کے روزہ رکھ لیتے ہیں۔ یہ ایک خاموش بم کی مانند ہو سکتا ہے۔ آج ہم بات کریں گے ان 10 خاموش خطرے کی گھنٹیوں کی جو روزہ اور صحت کے درمیان توازن بگاڑ سکتی ہیں۔ یہ ہے وہ خطرناک سچائی: “گردے کے مریضوں کے لیے روزہ: 10 خاموش خطرے کی گھنٹیاں جو نظرانداز نہیں ہونی چاہئیں”۔
ہم سب جانتے ہیں کہ روزہ روح کو پاک کرتا ہے۔ لیکن جسم کی بات کریں، تو صورتحال مختلف ہو سکتی ہے۔ گردوں کی صحت ایک نازک معاملہ ہے۔ یہ آرگنز ہمارے خون کا فلٹر ہیں۔ پانی کی کمی ان کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔ میں نے ایک مریض دیکھا تھا جو صرف تین روزے رکھنے کے بعد ہسپتال پہنچ گیا۔ وجہ؟ اس نے ان خاموش علامات کو نظرانداز کر دیا تھا۔
یہ سوچنا کہ “چل جائے گا” بہت بڑی غلطی ہے۔ گردے کی بیماری ایک خاموش قاتل ہے۔ یہ بغیر کسی واضح اشارے کے آپ کے جسم کو اندر سے کھوکھلا کر سکتی ہے۔ روزہ اس عمل کو تیز کر سکتا ہے۔ آئیے، ان خطرات کو سمجھتے ہیں۔
وہ 10 خاموش خطرے کی گھنٹیاں جو آپ کو خبردار کرتی ہیں
یہ علامات معمولی لگ سکتی ہیں۔ لیکن انہیں ہرگز نظرانداز مت کریں۔ یہ آپ کے گردوں کی صحت کے لیے ریڈ الرٹ ہیں۔
1. انتہائی تھکاوٹ اور کمزوری
رمضان میں تھکاوٹ عام ہے۔ لیکن اگر آپ کو ایسی تھکاوٹ محسوس ہو جو دن بھر برقرار رہے؟ یہ صرف نیند کی کمی نہیں ہو سکتی۔ گردے خون صاف نہیں کر پاتے، تو زہریلے مادے جمع ہو جاتے ہیں۔ نتیجہ؟ ایک مستقل، گہری تھکاوٹ۔ ایک تحقیق کے مطابق، گردے کے 70% مریض شدید تھکاوٹ کی شکایت کرتے ہیں۔
2. پیشاب میں نمایاں کمی
یہ سب سے بڑا اشارہ ہے۔ اگر آپ سحری و افطاری کے درمیان صرف ایک یا دو بار پیشاب کریں؟ یا پیشاب کی رنگت گہری پیلی ہو؟ یہ آپ کے جسم میں پانی کی شدید کمی کی علامت ہے۔ گردوں کو کام کرنے کے لیے مسلسل فلڈ کی ضرورت ہوتی ہے۔
3. سانس لینے میں دشواری
آپ بیٹھے بیٹھے اچانک ہانپنے لگیں؟ یہ فلوڈ اوورلوڈ کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ خراب گردے فالتو سیال جسم سے خارج نہیں کر پاتے۔ یہ سیال پھیپھڑوں کے ارد گرد جمع ہو جاتا ہے۔ سانس لینا مشکل ہو جاتا ہے۔ یہ کسی بھی گردے کے مریض کے لیے ایمرجنسی کی علامت ہے۔
4. پیروں، ٹخنوں اور چہرے پر سوجن
گردے فالتو سوڈیم اور سیال کو باہر نہ نکال پائیں؟ تو وہ جسم کے نچلے حصوں میں جمع ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ افطار کے بعد اپنے پیروں اور ٹخنوں کو چیک کریں۔ اگر سوجن افطار کے گھنٹوں بعد بھی برقرار رہے، تو یہ ایک بڑا اشارہ ہے۔
5. مسلسل متلی یا بھوک نہ لگنا
یہ صرف بھوکا رہنے کی وجہ سے نہیں ہے۔ گردے کام چھوڑنے لگیں، تو خون میں یوریا کی مقدار بڑھ جاتی ہے۔ یہ معدے میں جاکر متلی اور قے کا باعث بنتی ہے۔ اگر آپ کو افطار کے وقت بھی کھانے کو دل نہ کرے، تو ہوشیار ہو جائیں۔
روزہ رکھنے سے پہلے یہ 5 ضروری کام کریں
خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں۔ احتیاط ہی بچاؤ ہے۔ ذرا سی تیاری آپ کو بڑے خطرے سے بچا سکتی ہے۔
- اپنے نیفرولوجسٹ سے ضرور ملیں: روزہ رکھنے سے پہلے اپنے ڈاکٹر کی مکمل منظوری لے لیں۔ وہ آپ کے لیب ٹیسٹ دیکھ کر بہتر فیصلہ دے سکتا ہے۔
- پانی کا شیڈول بنائیں: سحری و افطاری کے درمیان 8-10 گلاس پانی پینے کا ٹارگٹ رکھیں۔ ایک ساتھ نہیں، تھوڑا تھوڑا کر کے۔
- نمک اور پروٹین پر نظر ر
