تصور کریں: آپ کو شدید بخار ہے، لیکن ہسپتال میں آپ سے کہا جاتا ہے کہ 5 گھنٹے انتظار کریں۔ اور اسی ہسپتال میں، کوئی امیر شخص آتا ہے، اپنا پے اینڈ اسکیپ ہیلتھ کارڈ دکھاتا ہے، اور فوراً ڈاکٹر کے پاس چلا جاتا ہے۔ کیا یہ صحت کی ناانصافی نہیں؟ یہ کوئی فلم کا سین نہیں، یہ حقیقت ہے جو آہستہ آہستہ پوری دنیا میں پھیل رہی ہے۔ سوال یہ ہے کہ کیا امیروں کے لیے فوری علاج، غریبوں کے لیے لمبی قطار کا یہ نظام ہم پر چپکے سے تھوپا جا رہا ہے؟
آئیے ایماندار بنیں۔ ہم سب جانتے ہیں کہ پیسہ ہر جگہ کام کرتا ہے، لیکن جب بات صحت کے دو درجے کی ہو، تو یہ ایک تلخ حقیقت بن جاتی ہے۔ کچھ لوگ وقت خرید سکتے ہیں، اور کچھ کو مجبوراً قطار میں کھڑا ہونا پڑتا ہے۔ یہ مضمون آپ کو بتائے گا کہ یہ تبدیلی کیسے اور کیوں ہو رہی ہے۔
صحت کا نظام: دو درجے، ایک کہانی
پہلے زمانے میں، سبھی ایک ہی قطار میں کھڑے ہوتے تھے۔ لیکن اب، پرائیویٹ ہیلتھ کیئر نے ایک نیا راستہ بنا لیا ہے۔ یہ کوئی راز نہیں کہ امیر لوگ اپنے علاج کے لیے پرائیویٹ ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں، جہاں انہیں فوری دیکھ بھال ملتی ہے۔ دوسری طرف، غریب لوگوں کے لیے سرکاری ہسپتالوں میں لمبی قطاریں اور محدود سہولیات ہیں۔
یہ فرق صرف پیسوں کا نہیں، بلکہ انسانی عزت کا بھی ہے۔ جب آپ قطار میں کھڑے ہوتے ہیں اور کوئی امیر شخص آپ کو پیچھے چھوڑ کر جاتا ہے، تو آپ کو کیسا لگتا ہے؟ غریبوں کی قطار میں کھڑے رہنا ایک آزمائش بن جاتا ہے۔

یہ نظام کیسے کام کرتا ہے؟
آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ “ٹو ٹائر” نظام آخر ہے کیا؟ چلیے، میں آپ کو ایک سادہ مثال دیتا ہوں۔ تصور کریں آپ ایک کیفے میں جا رہے ہیں۔ عام لوگ لائن میں کھڑے ہوتے ہیں، لیکن پریئم کسٹمرز کے لیے ایک الگ “فاسٹ ٹریک” ہوتا ہے۔ بالکل اسی طرح، ہسپتالوں میں اب پے اینڈ اسکیپ ہیلتھ کا کلچر بڑھ رہا ہے۔ آپ اضافی رقم ادا کریں اور فوری علاج حاصل کریں۔
یہ صرف بڑے شہروں کی بات نہیں۔ چھوٹے شہروں میں بھی یہ رجحان بڑھ رہا ہے۔ ہسپتالوں نے پرائیویٹ وارڈز بنائے ہیں، جہاں صرف وہی لوگ جا سکتے ہیں جو ماہانہ “مینٹیننس” دے سکیں۔ یہ ہیلتھ سسٹم کی تبدیلی اتنی تیزی سے ہو رہی ہے کہ ہمیں پتا بھی نہیں چلتا۔
وہ لوگ جو پیچھے رہ گئے
ایک بار میں نے اپنے ایک دوست سے سنا، جو ایک سرکاری ہسپتال میں کام کرتا ہے۔ اس نے بتایا کہ کس طرح ایک غریب کسان اپنی بیوی کو لے کر آیا، لیکن قطار اتنی لمبی تھی کہ اسے 8 گھنٹے انتظار کرنا پڑا۔ جب تک اس کی بیوی کی باری آئی، اس کی حالت بگڑ چکی تھی۔ دوسری طرف، اسی ہسپتال کے پرائیویٹ ونگ میں، ایک تاجر اپنے معمولی بخار کے لیے 5 منٹ میں ڈاکٹر سے مل گیا۔
یہ صرف ایک واقعہ ہے، لیکن اس طرح کے واقعات لاکھوں ہیں۔ کیا یہ صحت کی ناانصافی نہیں کہ ایک انسان کی زندگی کا انحصار اس کے بینک اکاؤنٹ پر ہو؟

کیا حکومتیں اسے روک سکتی ہیں؟
یہ سوال اہم ہے۔ کچھ ممالک نے تو اسے قانونی شکل دے دی ہے۔ مثال کے طور پر برطانیہ میں، NHS کے تحت سب کو مفت علاج ملتا ہے، لیکن اب پرائیویٹ انشورنس والے لوگ الگ قطار میں جا سکتے ہیں۔ یہی پاکستان اور بھارت میں بھی ہو رہا ہے۔
ایک تحقیق کے مطابق، پاکستان میں 60% امیر لوگ پرائیویٹ ہسپتالوں میں جاتے ہیں، جبکہ غریب لوگ سرکاری ہسپتالوں پر انحصار کرتے ہیں۔ یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ صحت کے دو درجے کا نظام کس طرح گہرا ہوتا جا رہا ہے۔
کیا آپ اسے روک سکتے ہیں؟
شاید نہیں۔ لیکن آپ اپنے لیے بہتر انتخاب کر سکتے ہیں۔ کچھ لوگ ہیلتھ انشورنس خریدتے ہیں، تو کچھ بچت کرتے ہیں۔ لیکن

