کبھی ایسا ہوا ہے آپ کے ساتھ؟ وہ دن جب سب کچھ بالکل ٹھیک ہوتا ہے، پھر بھی آپ کے اندر ایک عجیب سا خالی پن ہوتا ہے۔ میرے لیے، ذہنی صحت کا سفر ایک ایسی ہی کہانی ہے۔ یہ صرف نفسیاتی بہبود کے بارے میں بات کرنے سے کہیں زیادہ ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جس کا میں نے براہ راست سامنا کیا۔ درحقیقت، ذہنی صحت کے بارے میں میرا تجربہ ہی وہ چیز ہے جس نے مجھے سکھایا کہ دماغی صحت دراصل کیا ہوتی ہے۔

یہ کوئی ایسی بات نہیں تھی جس پر میں فخر محسوس کرتا۔ شروع میں تو میں نے اسے نظر انداز کرنے کی کوشش کی۔ “بس تھوڑا تھکا ہوا ہوں”، میں اپنے آپ سے کہتا۔ لیکن یہ تھکاوٹ نہیں تھی۔ یہ کچھ اور تھا، ایک گہرا اور بھاری احساس۔

پھر ایک دن، میں نے محسوس کیا کہ میں اپنے ہی دماغ میں قید ہوں۔ میں وہ شخص نہیں رہا تھا جو میں ہوا کرتا تھا۔ مجھے احساس ہوا کہ یہ صرف ایک “برا دن” نہیں تھا۔ شاید یہ ذہنی بیماری کا آغاز تھا، اور مجھے مدد کی ضرورت ہے۔

ذہنی دباؤ اور تنہائی کا احساس

وہ لمحہ جب سب بدلا: میری پہلی بار پہچان

میں نے اپنے ایک قریبی دوست سے بات کی۔ اس نے کہا، “تمہارے ساتھ کچھ ٹھیک نہیں لگ رہا۔” اور بس۔ یہ ایک جملہ تھا جس نے میری آنکھیں کھول دیں۔ میں نے سوچا، “کیا واقعی سب کو دکھائی دے رہا ہے؟” میں نے اسے بتایا کہ میں کس طرح محسوس کر رہا ہوں۔ یہ اعتراف کرنا کہ میں “ٹھیک نہیں ہوں” میرے لیے سب سے مشکل کام تھا۔

یہ وہ قدم تھا جس نے سب کچھ بدل دیا۔ بات چیت ہی پہلی سیڑھی ہے۔ عالمی ادارہ صحت (WHO) کے مطابق، دنیا بھر میں ہر 4 میں سے 1 شخص کسی نہ کسی طرح کی ذہنی بیماری کا شکار ہوتا ہے۔ یہ اعداد و شمار دیکھ کر مجھے لگا کہ میں بالکل اکیلا نہیں ہوں۔

ذہنی صحت کے لیے بات چیت اور سپورٹ

مدد مانگنا: میرا سب سے بڑا سبق

ماہر نفسیات کے پاس جانا میرے لیے ایک ڈراؤنا خواب جیسا تھا۔ میں نے سوچا، “لوگ کیا کہیں گے؟” لیکن پھر میں نے فیصلہ کیا۔ میری صحت دوسروں کی رائے سے زیادہ اہم ہے۔

تھراپی نے مجھے کیا سکھایا:

  • جذبات کو پہچاننا: یہ جاننا کہ میں کیوں غمگین یا پریشان ہو رہا ہوں۔
  • حدود مقرر کرنا: نہ کہنا سیکھنا، بغیر guilt محسوس کیے۔
  • دن میں ایک چھوٹا سا break لینا: بس پانچ منٹ کی سانس لینے کی ورزش۔

یہ سب چھوٹے چھوٹے steps تھے۔ لیکن انہوں نے مل کر میری زندگی بدل دی۔

نفسیاتی بہبود کے لیے مراقبہ اور پرسکون لمحات

روزانہ خود کی دیکھ بھال: ایک معمول بنانا

اب میں جانتا ہوں کہ ذہنی صحت ایک مقصد نہیں، ایک سفر ہے۔ اس کے لیے روزانہ محنت چاہیے۔ میں نے اپنے لیے ایک معمول بنایا ہے۔

میرا دن اب ایک کپ چائے اور پانچ منٹ کی خاموشی سے شروع ہوتا ہے۔ میں نے خود کی دیکھ بھال کے لیے کچھ آسان tips اپنائی ہیں۔ 🔥

  • چہل قدمی: دن میں صرف 15 منٹ کی واک۔ یہ میرا دماغ صاف کرتی ہے۔
  • ڈیجیٹل ڈیٹاکس: ہر شام 8 بجے کے بعد فون کو “نہیں” کہنا۔
  • شکریہ کا Journal: روزانہ ایک چیز لکھنا جس کے لیے میں شکر گزار ہوں۔

MIND جیسی تنظیموں کے مطابق، روزانہ کی یہ چھوٹی عادات طویل مدتی نفسیاتی بہبود کے لیے بہت اہم ہیں۔

آگاہی پھیلانا: میرا نیا مقصد

اب میری کوشش ہے کہ دوسروں تک بھی یہ بات پہنچاؤں۔

Categorized in: