تصور کریں، آپ ہر ماہ ایسے درد سے گزرتی ہیں جیسے کوئی آپ کے پیٹ میں چھریاں گھما رہا ہو۔ اور جب آپ ڈاکٹر کے پاس جائیں تو وہ کہے، “یہ تو نارمل ہے۔” یہ وہی لمحہ ہے جب آپ کو احساس ہوتا ہے کہ شاید وہ آپ کی بات نہیں سن رہے۔ دراصل، یہ محض ایک طبی غلطی نہیں، بلکہ خواتین کی صحت کے ساتھ ایک گہری عورت دشمنی ہے۔ آئیے، اس حقیقت کو کھول کر دیکھیں کہ کیسے ‘وہ اسے نارمل کہتے تھے — اینڈومیٹریوسس کے پیچھے چپی عورت دشمنی’ آج بھی لاکھوں عورتوں کی زندگیاں تباہ کر رہی ہے۔
یہ کیا چیز ہے جسے ہم “عام” کہتے ہیں؟ 🤔
ایک لمحے کے لیے سوچیں۔ جب آپ کو Endometriosis ہو، تو آپ کا جسم ہر مہینے ایک ایسی جنگ لڑ رہا ہوتا ہے جسے کوئی نہیں دیکھتا۔ لیکن سب سے بڑا دھوکہ یہ ہے کہ آس پاس کے لوگ، یا بعض اوقات ڈاکٹر بھی، اسے “عام ماہواری کا درد” کہہ کر ٹال دیتے ہیں۔ یہ کیسے عام ہو سکتا ہے جب آپ بیہوش ہو جائیں، قے آئے، یا دنوں بستر پر پڑی رہیں؟
سچ تو یہ ہے کہ Endometriosis awareness کی کمی نے اس عورت دشمنی کو پروان چڑھایا ہے۔ ایک تحقیق کے مطابق، Endometriosis والی 60% سے زیادہ خواتین کو بتایا جاتا ہے کہ ان کا درد “صرف ذہنی ہے”۔ *RHS کے مطالعات سے پتہ چلتا ہے کہ اس بیماری کی تشخیص میں اوسطاً 7 سے 10 سال لگ جاتے ہیں۔*
🔥 حقیقت: اندازاً 10 میں سے 1 عورت اینڈومیٹریوسس کا شکار ہے، لیکن آدھی سے زیادہ کو پتہ بھی نہیں۔

کیوں عورت کا درد سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا؟
یہاں ایک چھپی ہوئی سچائی ہے۔ پوری دنیا میں، میڈیکل سائنس صدیوں سے مردوں کے جسم کو “معیار” سمجھتی آئی ہے۔ جب ایک عورت درد میں کراہتی ہے، تو اسے اکثر “حساس” یا “ڈرامہ باز” کہا جاتا ہے۔ یہ صرف ایک مسئلہ نہیں، یہ ایک ثقافتی زہر ہے۔
ایک بار میری ایک کلائنٹ تھی، ثانیہ۔ اس نے مجھے بتایا کہ جب وہ 17 سال کی تھی، اس کے درد نے اسے سکول جانے سے روک دیا۔ ڈاکٹر نے کہا، “یہ تمہاری عادت ہے، خواتین کی صحت میں یہ سب عام ہے۔” 12 سال بعد، جب وہ آپریشن ٹیبل پر تھی، پتہ چلا کہ اس کی بچہ دانی کے پیچھے اینڈومیٹریوسس کے ٹشو پھیل چکے تھے۔
یہ کہانی لاکھوں عورتوں کی ہے۔ Endometriosis facts بتاتے ہیں کہ یہ بیماری انڈوں کی طرح پھیلتی ہے، لیکن معاشرہ اسے “بری قسمت” کہتا ہے۔ یہی عورت دشمنی ہے جو چپکے چپکے عورتوں کے جسموں کو کنٹرول کرتی ہے۔

پھر بھی “یہ سب آپ کے دماغ میں ہے” کیوں کہا جاتا ہے؟ 😤
یہ سن کر آپ کو حیرت ہوگی کہ 2019 کی ایک تحقیق میں پتا چلا کہ خواتین کو درد کی شکایت پر طاقتور درد کش ادویات ملنے کے امکانات مردوں کے مقابلے میں 25% کم ہوتے ہیں۔ کیوں؟ کیونکہ ان کا درد “جذباتی” سمجھا جاتا ہے۔
یہاں کچھ ایسے طریقے ہیں جن سے یہ عورت دشمنی چھپی ہوئی ہے:
- “آپ پریشان ہیں” کا لیبل: جب ایک عورت درد میں ہوتی ہے، تو اسے ڈپریشن یا اضطراب کا مریض سمجھ لیا جاتا ہے۔ حقیقت میں، وہ دائمی درد سے جھوٹ بول رہی ہوتی ہے۔
- “شادی کے بعد ٹھیک ہو جائے گا” کا جادو: یہ ایک عام جملہ ہے جو عورتوں کی طبی شکایات کو مذاق بنا دیتا ہے۔ جیسے شادی ایک معجزاتی علاج ہو۔
- کام کی جگہ پر امتیاز: بہت سی عورتوں کو نوکری سے نکال دیا جاتا ہے، کیونکہ وہ ماہواری کے دوران چھٹی لیتی ہیں۔ ملازمت دینے والے اسے “کمزوری” سمجھتے ہیں، جبکہ یہ ایک سنگین طبی حالت ہے۔
یاد رکھیں، جب آپ کسی عورت کو کہتے ہیں کہ اس کا درد “نارمل” ہے، تو آپ اسے یہ نہیں بتا رہے کہ وہ مضبوط ہے۔ آپ اسے یہ سکھا رہے ہیں کہ خاموش رہنا سیکھے۔ یہی misogyny in medicine کی سب سے گہری جڑ ہے۔

